سری نگر،13جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی سابقہ اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نام لئے بغیر کہا کہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوششوں کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بغاوت پر کہا کہ ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور ان اختلافات کو مل بیٹھ کر دور کیا جاتا ہے۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کی صبح یہاں ’یوم شہدائے کشمیر‘ کے موقع پر اپنے پارٹی رفقاء کے ہمراہ مزار شہداء نقشبند صاحب میں حاضری دینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی (مرکزی حکومت) پی ڈی پی کو توڑنے اور عوام کے ووٹوں پر شب خون مارنے کی مرتکب ہوئی تو کشمیر میں نئے صلاح الدین (حزب المجاہدین سپریم کمانڈر سید صلاح الدین) اور یاسین ملک (جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین) جنم لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے گذشتہ ماہ پی ڈی پی سے تین سالہ اتحاد توڑ کر ریاستی حکومت کو گرادیا۔ حکومت کے گرنے کے بعد پی ڈی پی کے اندر بغاوت شروع ہوئی اور مبینہ طور پر کم از کم پانچ ممبران اسمبلی بالواسطہ طور پر ریاست میں بی جے پی حکومت بنانے کے لئے کام کررہے ہیں۔ محترمہ مفتی نے کہا ’ہر جماعت میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ گھر میں بھی اختلافات پیدا ہوتے ہیں جن کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ مگر اگر دلی نے 1987 کی طرح جب انہوں نے یہاں کے لوگوں کے حقوق اور ووٹ پر ڈاکہ ڈالا، اگر اْس قسم کی کوئی کوشش کی گئی تو میں سمجھتی ہوں کہ جس طرح 1987 میں ایک صلاح الدین اور ایک یاسین ملک نے جنم لیا، اگر آج انہوں نے کسی قسم کی کوشش کی تو (ویسے ہی حالات پھر پیدا ہوسکتے ہیں)‘۔